Friday, 3 February 2017

دنیا پر حکمرانی کرنے والوں کے گھر

دنیا میں سب تو نہیں لیکن بہت بڑی اکثریت وائٹ ہاؤس کے بارے میں جانتی ہوگی جو کہ امریکی صدر کی رہائشگاہ ہے مگر باقی دنیا کے رہنماءکہاں رہتے ہیں؟
اس میں حیرت کی بات نہیں کہ دنیا کے طاقتور ترین افراد میں شامل سربراہ مملکت اور وزرائے اعظم وغیرہ پرتعیش گھروں
میں رہتے ہیں جو ان کے پوزیشن کے مطابق ہوتی ہیں۔
یہ محلات اور مکانات ہر ضروری چیز سے لیس ہوتے ہیں یعنی ہیلی پیڈز سے لے کر انمول آرٹ کے شہہ پاروں تک۔
تو ٹوکیو کے امپرئیل پیلس جہاں جاپان کے شہنشاہ مقیم ہیں سے لے کر پیرس کے ایلیسی پیلس تک یہاں چند عالمی رہنماﺅں کی پرتعیش رہائشگاہوں کو پیش کیا جارہا ہے جن کو دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔

برازیل

فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز

برازیل کے دارالحکومت برازیلیا میں پلاسیو دا الوردا وہاں کے صدر کی آفیشل رہائشگاہ ہے۔ یہاں 1956 کے بعد سے منتخب ہونے والے تمام برازیلین صدور رہتے آرہے ہیں۔ پانی کے تالاب میں اس کا عکس دیکھنے والوں کو دنگ کردیتا ہے اور اسے برازیلین آرٹسٹ الفرڈو کیسھاٹی نے ڈیزائن کیا۔
فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز
اس گھر میں پرائیویٹ سویٹس، بہت بڑا لیونگ روم اور ایک تہہ خانہ ہے جہاں اس کا آڈیٹوریم، گیم روم، گوادام اور باورچی خانہ واقع ہے۔




فرانس

کریٹیو کامنز فوٹو
پیرس کا مقبول و معروف ایلیسی پیلس کو 1840 کے بعد سے فرانسیسی صدر کی آفیشل رہائشگاہ کی حیثیت حاصل ہے۔ فرنچ صدر فرانکوئس ہولانڈ یہاں 2012 سے مقیم ہیں۔
کریٹیو کامنز فوٹو
یہ محل 1722 میں تعمیر ہوا تھا اور یہاں سنہرے رنگ کا خوب استعمال کیا گیا ہے خاص طور پر اس کے طرز تعمیر کی عکاسی ہال آف فیسٹیویٹیز سے ہوتی ہے جہاں ہر فرنچ صدر اپنے عہدے کا حلف لیتا ہے جبکہ یہ کانفرنسز اور ظہرانوں کا بھی آفیشل کمرہ ہے۔
جنوبی کوریا
کریٹیو کامنز فوٹو
اسے کورین زبان میں چیونگ وا ڈائی کہا جاتا ہے یعنی نیلا گھر اور یہ جنوبی کورین صدر کی رہائش گاہ ہے، جسے روایتی
کورین طرز تعمیر کے مطابق 10 ویں صدی میں کوریو شہنشاہیت کے عہد میں جنوبی کورین دارالحکومت سیئول میں تعمیر کیا گیا تھا، اس کا کچھ حصہ 1991 میں تعمیر ہوا اور اس کی نیلی ٹائلیں سب سے سے نمایاں فیچر ہے جو اسے ایک منفرد خوبصورتی فراہم کرتی ہیں۔

جاپان

کریٹیو کامنز فوٹو
امپرئیل پیلس ٹوکیو کے وسط میں ایک وسیع پارک کے اندر واقع ہے جس کے گرد گہری خندقیں اور پتھروں کی موٹی دیواریں ہیں۔ یہ جاپان کے شہنشاہ اور ان کے خاندان کا گھر ہے۔

ملائیشیاء

کریٹیو کامنز فوٹو
استانہ نگارا ملائے زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب قومی محل بنتا ہے، جس کی تعمیر 2011 میں مکمل ہوئی تھی جس کے بعد سے یہ سربراہ مملکت کی آفیشل رہائشگاہ قرار دی گئی،اس عمارت میں 22 گنبد ہیں جبکہ یہ اسلامی اور ملائے طرز تعمیر کا امتزاج ہے، مگر یہاں عام عوام کو داخلے کی اجازت نہیں۔

امریکا

رائٹرز فوٹو
وائٹ ہاﺅس کے بارے میں تو سب کو ہی معلوم ہے کہ وہ واشنگٹن ڈی سی میں واقع ہے اور یہ ممکنہ طور پر دنیا کی سب سے مقبول صدارتی رہائشگاہ ہے اور اوول آفس صدر کا رسمی دفتر ہے جو کہ ممکنہ طور پر سب سے مقبول کمرہ ہے۔ اس کمرے مین صدر اوبامہ سفارتکاروں، عملے، وفود اور سربرائے مملکتوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔
رائٹرز فوٹو
وائٹ ہاﺅس میں کھانے کے دو کمرے ہیں، ایک صدارتی خاندان اور دوسرا عالمی رہنماﺅں کی دعوت کے لیے ہے۔ ان میں سے ایک کمرہ یہ ہے جسے مشعل اوبامہ نے رواں سال دوبارہ سجایا۔

آسٹریلیا

فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
کینبرا میں واقع دی لاج نامی یہ عمارت آسٹریلیا کے وزیراعظم کی رہائش گا ہے، جو کہ دیگر عالمی رہنماﺅں کے مقابلے کم پرتعیش اور گلیمرس نظر آتی ہے، یہ 40 کمروں پر پھیلی عمارت ہے جہاں 1927 سے اس ملک کے وزرائے اعظم رہتے آرہے ہیں بلکہ اسے تعمیر ہی وزرائے اعظم کی رہائش گاہ کے طور پر کیا گیا تھا۔

تھائی لینڈ

کریٹیو کامنز فوٹو
کیتھڈرل پیلس بینکاک میں واقع ہے اور یہ تھائی بادشاہ بھومی بول ایدلیاویج کی رہائشگاہ ہے جو پہے بادشاہ ہیں جنھوں گرینڈ پیلس کی بجائے اسے اپنا گھر بنایا۔ اس محل میں ایک فارم بھی موجود ہے جو شاہی زرعی منصوبوں کے وقف ہے جبکہ ایک اسکول بھی ہے جو شاہی خاندان اور عملے کے بچوں کے لیے ہے۔

کولمبیا

فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
کولمبیا کے صدر کی رہائش گاہ کو وہاں کی زبان میں Plaza de Bolívar کہا جاتا ہے جو کہ دارالحکومت بوگوٹا میں واقع ہے، جسے کولمبیا کے انقلابی اور آزادی کے بانی انٹونیو نارینو سے منسوب کیا جاتا ہے جن کی رہائش کے لیے اسے تعمیر کیا گیا تھا۔

ویت نام

فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز
ہنوئی میں واقع ایوان صدر کو 1906 میں فرانس کی جانب سے انڈو چائنا کے گورنر جنرل کے لیے 1906 میں تعمیر کیا گیا۔ آج اسے صرف سرکاری دعوتوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز
اس محل کے ارگرد ایک تالاب موجود ہے جیسا انڈوچائنا عہد کی متعدد فرانسیسی عمارات میں دیکھنے میں آتا ہے۔ اسے ایک فرنچ آرکیٹکٹ نے ڈیزائن کیا اور اس کی عمارت میں یورپی انداز واضح ہے۔

چین

فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز
Zhongnanhai نامی یہ عمارت بیجنگ کے مرکز میں واقع ہے اور بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ بلند و بالا عمارت کے پیچھے کیا ہے، اس کے نام کا مطلب مرکزی اور جنوبی سمندر ہیں، اسے چین کے صدر کی رہائش گاہ قرار دیا گیا ہے، جو کہ ایک ہزار سال قبل جن شہنشاہیت میں تعمیر کی گئی تھی، اسی عمارت میں 1949 میں چین میں کمیونسٹ انقلاب کے بعد ماﺅزے تنگ نے بھی رہائش اختیار کی تھی۔

برطانیہ

کریٹیو کامنز فوٹو
اگرچہ تیکنیکی طور پر وہ اپنے ملک کی رہنماءتو نہیں مگر ملکہ الزبتھ دوئم لندن کے بکنگھم پیلس میں مقیم ہیں جو 1837 برطانوی شاہی خاندان کا گھر بنا ہوا ہے۔
فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز
اس میں 775 کمرے ہیں جن میں سے 52 شاہی بیڈرومز، 188 عملے کے کمرے، 92 دفاتر اور 78 باتھ رومز شامل ہیں۔
فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز

ملکہ کے برعکس برطانوی وزرائے اعظم ٹٰین ڈاﺅننگ اسٹریٹ نامی گھر میں رہائش اختیار کرتے ہیں۔ موجودہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمروں اپنے خاندان کے ہمراہ یہاں مقیم ہیں۔

روس

کریٹیو کامنز فوٹو
کریملن کے نام سے مشہور یہ عمارت دریائے Moskva کے کنارے واقع ہے جو اب روسی صدر ولادی میر پیوٹن کا گھر بھی ہے، ماسکو کے قلب میں واقع یہ عظیم الشان عمارت اپنے سرخ اسکوائر اور رنگا رنگ گنبدوں کی وجہ سے جانی جاتی ہے، 1326 میں روسی آرتھوڈکس چرچ ماسکو منتقل ہوا اور ایک صدی بعد یہاں تعمیرات مکمل ہوئیں جسے ہم اب کریملن کے نام سے جانتے ہیں، جس کا مطلب ہے شہر کے اندر ایک قلعہ۔ 1917 کے انقلاب کے بعد سوویت یونین کے صدور کی رہائش گاہ بن گئی تھی، اب بھی اس کا بیشتر حصہ عوام کے لیے کھلا ہوا ہے۔

ترکی

فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز
صدر رجب طیب اردوان کی رہائشگاہ جسے وائٹ پیلس کا نام دیا گیا ہے، انقرہ میں تعمیر کی گئی۔ اس محل کی تعمیر 615 ملین ڈالرز سے ہوئی اور اس میں 11 سو سے زائد کمرے ہیں جو اسے وائٹ ہاﺅس سے بھی بڑا بناتے ہیں۔

جرمنی

کریٹیو کامنز فوٹو
برلن کے وسط میں واقع بیللیویو پیلس 1994 سے جرمنی کے صدر کی رہائشگاہ ہے۔ تاہم اس کی تعمیر 1785 میں فریڈرک دی گریٹ کے چھوٹے بھائی نے کی تھی، یہاں کچھ عرصے اسکول بھی قائم رہا اور نازیوں کے عہد میں اسے میوزیم کا درجہ دیا گیا تھا۔

ارجنٹائن

کریٹیو کامنز فوٹو
ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرش کے مشرق میں واقع لا کاسا روسڈا یہاں کے صدور کی رہائش گاہ ہے، اس کے نام کا مطلب گلابی گھر ہے جو کہ اس عمارت کے باہری رنگوں کو دیکھ کر دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ 1870 کی دہائی میں اس وقت کے صدر نے اس وقت خانہ جنگی کو روکنے کے لیے امن کرانے کی کوشش کے طور پر اس عمارت پر سرخ اور سفید رنگ کیا تھا، تاہم انیسویں صدی میں اس پر خون جیسے سرخ رنگ میں سفید رنگ ملا کر اسے رنگا گیا جو کہ شوخ گلابی رنگ کی شکل اختیار کرگیا۔

کینیڈا

فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
1951 سے اوٹاوا میں واقع سیکسز ڈرائیو وہاں کے وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ ہے، جس کی تعمیر کا آغاز 1868 میں ایک رکن پارلیمنٹ نے شادی کے تحفے کے طور پر کیا تھا، مگر جب اسے وزیراعظم کی رہائش گاہ کا درجہ ملا تو اس کو نئے سرے سے تعمیر کیا گیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ موجود کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو یہاں نہیں رہتے جہاں وہ بچپن میں والد کے ساتھ رہ چکے ہیں جو کینیڈا کے وزیراعظم رہے۔

اٹلی

کریٹیو کامنز فوٹو
روم میں موجود کیورینل پیلس اٹلی کے صدر کی تین رہائشگاہوں میں سے ایک ہے۔ یہ وائٹ ہاﺅس کے مقابلے میں بیس گنا بڑا ہے اور یہاں ماضی میں تیس پوپ، چار اطالوی بادشاہ اور 12 صدور قیام کرچکے ہیں۔
فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز
موجودہ اطالوی صدر نے 1200 کمروں پر مشتمل اس 16 ویں صدی کے محل کو عوام کے لیے کھول دیا ہے کیونکہ وہ یہاں بہت کم قیام کرتے ہیں اور اب یہاں اکثر آرٹ نمائشیں ہوتی رہتی ہیں۔

پاکستان

فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
وزیراعظم سیکرٹریٹ ہی وزیراعظم کی آفیشل رہائشگاہ اور دفتر ہے۔ اسلام آباد میں واقع محل نما عمارتکا ڈیزائن سی ڈی اے نے تیار کیا تھا۔

انڈیا

کریٹیو کامنز فوٹو
راشٹر پتی بھون بھارتی صدر کی سرکاری رہائش گاہ ہے، جو کہ 330 ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی ہے اور یہ دنیا میں سب سے بڑی صدارتی رہائشگاہ بھی ہے، اسے ایک برطانوی آرکیٹیکٹ نے ڈیزائن کیا تھا جو کہ سرخ اور کریم پتھروں سے انڈین اور مغربی طرز تعمیر کے امتزاج سے تعمیر ہوئی۔ تاج محل سے متاثر ہوکر یہاں مغلیہ انداز کے باغات بھی بنائے گئے اور اسے ہر سال ایک تہوار کے موقع پر عوام کے لیے کھولا جاتا ہے۔

Source: Dawn News

No comments:

Post a Comment