Friday, 10 February 2017

خوا تین میں صلہ رحمی کی ضرورت


   تحقیق و تحریر :  رمشا شیراز  ۸ فروری۲۰۱۷    

سُوۡرَةُ النِّسَاء  
ترجمہ: اور اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے بچو یقین جا نو کہ اللہ تمھارے نگرانی کر رہا ہے۔

! محترم قارئین  

رسول اللہ ﷺ نے صلہ رحمی کی تصویر کشی اس طرح کی ہے 


(رحم رشتہ اور ناطہ) عرش معلق ہو کر کہتا ہے جس نے مجھے جوڑا اس کو اللہ جوڑے گا اور جس نے مجھے کا ٹا اور اس کو اللہ کا ٹے گا  (صحیح مسلم ۶۵۱۹ )

ایک اور حدیث میں ہے 

قطع  رحمی کر نے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔ بخاری  ۵۹۸۴

صلہ رحمی کا  مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک قرابت دار دوسرے قرابت دار کے ساتھ برابری کا معاملہ کر ے کہ وہ جڑے تو یہ جڑے اور اگر وہ اچھا سلوک کرے تو  یہ بھی اچھا سلوک کرے یہ تو امر طبعی ہے بلکہ جو چیز واجب ہے وہ یہ کہ رشتہ داروں کو بہر حال جوڑے اگر چہ کہ وہ اس سے ترک تعلق کریں اس لئے آپﷺ نے فرمایا 



صلح رحمی کر نے والا وہ نہیں ہے جو برا بری کا معاملہ کر تا ہے بلکہ صلح رحمی کر نے والا وہ ہے جو قطع رحمی کر نے والے کو جوڑتا ہے ۔  بخاری ۵۹۱۹


باہم صلح صفائی 

جن مسلمانوں کے درمیان  نا چاقی ہو ان کو آپس میں صلح صفائی کر لینی چا ہئیے کہ یہ اُخوت دینی تقاضا ہے اس کی ذمہ داری معا شرہ  پر بھی عائد ہو تی ہے کیونکہ اسلامی معاشرہ ایک دوسرے کا کفیل اور معاون ہو تا ہے ۔ لہذا اس کے لئے یہ روا نہیں کہ وہ تما شائی بن کر اپنے بعض فرزندوں کو اس حال میں چھوڑ دے کہ وہ باہم لڑتے جھگڑتے رہیں اور ان کے درمیان دشمنی کی آگ بھڑکتی رہے یا عداوت کی خلیج و سیع ہو تی  رہے ۔ 



معاشرہ کے اصحاب الرائے اور اہل فکر و دانش لو گوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ خالصتاً حق کے لئے اور خواہشات نفس سے بچتے ہو ئے اس معاملہ میں مداخلت کریں اورمسلمانوں کے تعلقات درست کر نے کی کوشش کریں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے 
اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرادو اور اللہ سے ڈرو تا کہ تم پر رحم کیا جا ئے۔ سورۃ الحجرات ۱۰ ت10


نبی کریم ﷺ نے حدیث میں اسطرح  اصلاح کر نے کی فضیلت بیان فرمائی ہے اور بعض و خصومت کے خطر ناک ہو نے سے آگاہ فرمایا 

کیا میں تمھیں نہ بتاؤں کہ نماز ، روزہ اور صدقہ سے بڑھ کر فضیلت وا لا کام کونسا ہے صحابہ ؓ نے عرض کیا ضرور بتائیے فرمایا ‘‘لو گوں کے درمیان صلح کرا نا  کیونکہ تعلقات کا بگاڑ مونڈنے والی چیز ہے ، با لوں کو مونڈنے والی نہیں بلکہ دین کو مونڈنے والی ہے (سنن ابی داؤد4010)



ایک اور حدیث میں ہے 

بے شک اللہ تمھاری صورتوں اور مال کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمھا رے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے (صحیح مسلم6543)

لہذا کسی مرد اور عورت کو اس بناء پر مذاق کر نا کسی طرح جا ئز ہو سکتا ہے کہ وہ جسم یا خلقت کی کسی خرابی میں  یا مالی افلاس میں مبتلا ہے ۔ 



طعن و تشنیع کر نا 

اس سلسلہ  کی دوسری حرام بات طعن و تشنیع ہے جو شخص لو گوں میں عیب نکا لتا ہے وہ گو یا نیزہ سے انہیں زخمی کر تا ہے بلکہ کبھی تو طعن و تشنیع نیزہ سے زخمی کر نے سے بھی زیادہ شدید ہو تی ہے کیونکہ نیزہ کے زخم مندمل ہو جا تے ہیں لیکن زبان کے زخم مندمل نہیں ہو تے قرآن حکیم میں ارشاد ہے 

ایک دوسرے کو طعن نہ دو(الحجرات11)


قرآن پاک نے انفسکم کہہ کر مومنوں کی جما عت کو نفس سے تعبیر کیا ہے کیونکہ سب ایک دوسرے کے کفیل اور معاون ہیں لہذا جس نے اپنے بھائی کو طعن کیا اس نے درحقیقت اپنے ہی نفس کو طعن کیا ۔



بُرے لقب سے پکارنا 



بُرے لقب سے پکارنا بھی طعن و تشنیع ہی کی ایک قسم ہے جو کہ حرام ہے یعنی کسی شخص کو ایسے نام سے پکارنا جو اُسے ناپسند ہوں اور اس پر  طعن کیا جا ئے انسان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے کسی بھائی کو ایسے لقب سے پکا رے  جو اس کے لئے با عث اذیت کو یہ سراسر زیادتی ہے آداب اور ذوق سلیم کے خلاف ہے ۔


بد گمانی 


اسلام چا ہتا ہے کہ معاشرہ کے اندر قلوب کی صفائی اور با ہمی اعتماد ہو شکوک و شہبات اور وہم و گمان کی فضا ہر گز نہ ہو ۔ اسی لئے مذکو رہ آیت میں جو چوتھی حرام بات  بیان کی گئی ہے وہ بد گمانی ہے چنانچہ فرمایا 

۱۲ اے ایمان والو بہت سے گمانوں سے بچو کہ بعض گمان گناہ ہیں ۔ سورۃ الحجرات 


یہ ظن جو بات باعث گناہ ہے بدگمانی ہے اور مسلمانوں کے لئے جا ئز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے کسی وجہ جواز اور کسی واضح دلیل کے  بغیر بدگمان ہو جا ئے لو گوں کو اصلاً بے قصور سمجھنا چا ہئیے اور بد گمانی نے وسوسوںمیں پڑھ کر ان پر تہمت لگا نے کا موقعہ نہیں پیدا کر نا چا ہئیے ارشادِ نبوی ﷺ ہے کہ
 ۵۱۴۳ بد گمانی سے بچو کہ بد گمانی بد ترین جھوٹ ہے۔ بخاری  


جب بد گمانی پیدا ہو جائے تو اسے صحیح خیال نہ کرو دوسروں کے با رے میں بد اعتمادی کے با عث باطنی طور پر آدمی بدگمانی میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ اور باطنی طور پر آدمی تجسس کر نے لگتا ہے لیکن اسلام معاشرہ کے ظاہر اور باطن دونوں کو پاک صاف رکھنا چا ہتا ہے اس لئے بد گمانی کی ممانعت کے ساتھ تجسس کی بھی ممنعت کی گئی ہے کیونکہ اکثر ایک بات دیگر بات کا سبب بنتی ہے لو گوں کی حرمت کو تجسس کے ذریعہ ذائل کر  نا اور ان کی منفی باتوں کے پیچھے پڑنا ہر گز جا ئز نہیں اگر چہ وہ ذاتی طور پر ی گناہ کے مر تکب ہو رہے ہوں جب تک کہ وہ اسے چھپا تے رہیں اور کھلے بندھن کا ارتکاب نہ کریں ۔ 



ارشاد  باری تعالیٰ اور ارشاد نبوی ﷺ کی روشنی میں ہمیں اپنے کردار کا جا ئزہ لینا چا ہئیے اور اپنے اندر موجود ان برا ئیوں کو ختم کر نے کی پو ری کوشش کرنی چا ہئیے تا کہ روزِ  حشر ہمیں اللہ تبارک تعالیٰ کے سامنے شرمندہ نہ ہو نا پڑے ۔ 
Source: alifseye.com


No comments:

Post a Comment