Wednesday, 8 February 2017

نبی کریم ﷺکی پسندیدہ غذائیں

   تحقیق و تحریر :  رمشا شیراز 6  فروری 2017     

! محترم قارئین  
ہما ری پسند ہما رے نبی کریم ﷺ کی پسندیدگی کے ساتھ ہو نی چا ہئیے کیونکہ یہی حبّ رسول ﷺ کا تقا ضہ ہے اور یہی نجا ت کا ضرور ذریعہ بنے گی ۔ ہما رے پیا رے نبی ﷺ نے زندگی کے ہر گو شہ میں ہما ری رہنمائی فر مائی ہے ۔ آپﷺ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ سیرتِ نبی کریم ﷺ کی صورت میں تا ریخ کے آئینہ میں محفوظ ہے ۔ کھانے پینے میں جہاں اعتدال کا راستہ قرآن کریم نے بتا یا ہے وہاں نبی کریم ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں اس پر عمل کر کے دکھا یا ۔ اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں سے لطف اندوز ہونا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر نا ہی مسنون طریقہ ہے اگر چہ آپ ﷺ نے کسی بھی کھا نے کی چیز سے نفرت نہیں کی مگر چند غذائیں ایسی ہیں جو نبی کریم ﷺ کو پسندیدہ اور بے حد مر غوب تھیں ۔


دودھ  
ان غذاؤں میں سب سے زیادہ پسندیدہ غذا دودھ تھی جب آپ ﷺ کے معراج کے سفر پت تشریف لے گئے تو نبی کریم ﷺ کو دو مشروب پیش کئے گئے ایک شراب اور دوسرا دودھ نبی کریم ﷺ نے دودھ کو پسند فرما یا (صحیح بخاری) نبی ذیشان ﷺ کی طرف سے دودھ کی پسندیدگی  اس کی حقیقت اور افا دیت کو سمجھنے کے لئے کا فی ہے سائنسی تحقیقات کے مطابق یہ ایک مکمل غذا ہے ۔ شیر خوار بچوں کی ابتدائی غذا دو دھ ہی ہے اور بچے کے لئے ماں کا دودھ ہی سب سے زیادہ  عمدہ ، مفید اور مکمل غذا ہے ۔ آج کے دور میں پورا  یو رپ گا ئے کے دو دھ میں خود کفیل ہی نہیں بلکہ بر آمد بھی کیا جا تا ہے ۔ بر صغیر پاک و ہند میں گا ئے کے علاوہ بھینس کے دودھ کی وافر مقدار ہے اور اسے تمام اقسام پر تر جیح اور فو قیت دی جا تی ہے تا ہم سحرا ئی علاقوں میں بکری اور بھیڑ کا دودھ ہی میسر ہے ۔

عرب کے وسیع و عریض خطہ میں اونٹنی کے دودھ کی تجا رت عام ہے لیکن آج کے ترقی یا فتہ دور میں دوجنوں خشک دودھ ، بند ڈبوں میں سیل ما رکیٹ میں مو جود ہیں جبکہ نبی کریمﷺ نے اپنی زندگی میں بکری اور اونٹنی Tea Whitener دودھ  اور چا ئے میں ملا نے کے لئے کے دودھ کو بکثرت استعمال کیا۔ بکری کا دودھ بچوں کے لئے کہیں زیادہ مفید ثابت ہو تا ہے ۔نبی کریم ﷺ نے صرف خود اونٹنی کا دودھ استعمال کیا بلکہ اسے استسقاء(شدید پیاس کی بیما ری) میں بے حد مفید قرار دیا ہے (صحیح بخاری) اس نقطہ نظر سے یہ جگر کے تمام امراض میں شفا بخشتے  کا ذریعہ ہے جدید سائنس کے مطابق دودھ ہڈیوں میں کیلشیم کی نشو نما اور عام جسمانی کمزوری کے لئے بے حد مفید ہے ۔ بعض لوگ شکایت کر تے ہیں کہ دودھ کے استعمال سے بلغم اور قبخیر جیسے امراض جنم لیتے ہیں دو دھ میں معمولی مقدار میں دار چینی ، الائچی کو جوش دیکر استعمال کریں تو کافی حد تک اس پریشانی کا علاج ہو تا ہے نبی کریم ﷺ نے دودھ کو شہد اور کھجور کے ساتھ استعمال کیا ۔ بلغمی مزاج اور پیٹ میں گیس پیدا ہو نے والی شکا یت کے ازالہ کے لئے آپ ﷺ کی سنت پر عمل کیا جا ئے تو یہ منفی اثرات ختم ہو جا تے ہیں ۔ ہما رے ہاں عموماً دو دھ کو پیٹ بھر کر کھا نا کھا نے کے بعد سوتے وقت پینے کا رواج ہے ۔ جو اس امراض کا سبب ہے اگر دودھ کو مکمل غذا سمجھ کر صبح نا شتہ میں یا پچھلے پہر خالی معدہ استعمال کیا جا ئے تو دو دھ ہضم بھی ہو جا تا ہے اور یہ شکا یت بھی ختم ہو جا تی ہے اونٹنی کا دودھ اب بڑے شہروں میں تمام فروخت ہو رہا ہے ۔

شہد  
مرغوب غذاؤں میں شہد کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ ربِّ کا ئینات نے شہد کے با رے میں ارشاد فرمایا شفاء الناس(النحل:69) کے جامع الفاظ استعمال فرما ئے ہیں نبی کریم ﷺ کو شہد سے جو رغبت تھی وہ سورۃ تحریم سے واضح ہو جا تی ہے ۔ جوں جوں سائنسی تحقیقا ت سامنے آرہی ہیں شہد کی طبّی افا دیت نمایاں تر ہو تی جا رہی ہیں ماء العسل(شہد میں پانی ڈال کر پینا) کو فالج لقوہ اور اعصابی امراض کا علاج قرار دیا گیا ہے معدہ کے امراض میں اس کے با رے میں نبی کریم ﷺ سے ایک طویل حدیث مبا رک مو جود ہے ۔ امراض ِ چشم میں شہد کا استعمال بے حد استعمالAnti Septicمفید ہے یہ بینائی کو قائم رکھتا ہے اور تیز رکھتا ہے آج یو رپ میں بعد از آپریشن زخم مند مل کر نے کے لئے   رواج پا رہا ہے۔ گر میوں میں پانی ملا کر شہد کا شربت اور سردیوں میں شہد اور ادرک کا قہوہ اپنی افا دیت کے اعتبار سے ثانی نہیں رکھتا۔ شہد کو دودھ میں ملا کر استعمال کر نا سنتِ نبوی ﷺ کے عین مطابق ہے اور مکمل غذا کا درجہ رکھتا ہے۔

کھجور  
نبی ذیشان ﷺ کے پسندیدہ اور مرغوب غذاؤں میں کھجور کو بھی ایک اہم اور خاص مقام حاصل ہے جدید سائنس تصدیق کر تی ہے وہ کیوں نہ کرے کیونکہ دنیا کا سچا ترین انسان اس کی افا دیت بتا تا ہے کھجور میں تمام قسم کے وٹا من پا ئے جا تے ہیں کھجور کو جدید سائنس مکمل غذا قرار دیتی ہے کتنے جری اور با ہمت لو گ تھے جو صرف کھجو ریں کھا کر روزہ رکھتے اور روزہ کی حا لت میں ہی غزوات میں شریک ہو ئے کھجور اب محض عربوں کا پھل نہیں رہا بلکہ پو ری دنیا کھجور اور شہد کی افادیت کی وجہ سے ان کی پیدا وار بڑھا نے کی طرف متوجہ ہے ۔

عالمی سطح پر شہد اور کھجور کی تجا رت تیزی سے فروغ پا رہی ہے ہما رے پیا رے نبی کریم ﷺ کھجور کو دودھ میں پکا کر استعمال کر تے تھے شہد اور کھجور کا دودھ تیار کردہ مشروب پڑھا پے کا سہا را ، جوانی کا نظارہ اور جو ڑوں میں درد جیسے امراض کا مداوا ہے ایسے مریض کو کہ بلڈ پریش کی کمی کے مریض میں ایسی خواتین جو زچگی  کے بعد کمزور ہو جا تی ہیں   ان کے لئے لا جواب ٹانک ہے ۔ اکثر مرد اور خواتین کی شکا یت کر تے ہیں سبب کچھ بھی ہو کھجور شہد اور دو دھ کا مرکب بے حد مفید ہے ۔

جَو  
نبی کریم ﷺ کی پسندیدہ اور مرغوب غذاؤں میں جو کے ستو کی بھی بڑی اہمیت ہے عبادت اور افا دیت کے لئے جن ایام میں نبی کریم ﷺ غارِحرا میں کئی کئی روز قیام ک رتے جو کے ستو ہی پانی کے ساتھ استعمال کر تے ۔ جو دلیہ ( ) امراض معدہ با لخصوص السر جیسے تکلیف دہ مرض میں بے حد مفید ہے ماء الشعیر(جو کا شیرہ)ٹا ئیفا ئیڈ کے مریضوں کے لئے مکمل غذا ہے آپ جو یرقان ، حدت جگر و مثانہ کے لئے بہترین مشروب ہے نانِ جو کھا نے والے وہ صحرا نشین کیا لوگ تھے جنہوں نے قیصرو کسریٰ کو فتخ کیا اور جس طرف بھی گئے فتح کے جھنڈے لہرا کر اسلام کی حقانیت کو تسلیم کروایا جَو زود ہضم ہے ہاتھ اور پاؤں کی جلن کو دور کر تا ہے ۔ یو رپ جَو کی شراب کے نشہ میں غرق ہو رہا ہے جبکہ ہم اس کو سنت نبویﷺ سمجھ کر ستو کی صورت میں اور دلیہ کی غذا کے طور استعمال کر کے نیکی اور فائدہ اٹھا سکتے ہیں

کدّو  
سبزیوں میں کدّو نبی کریم ﷺ کی من پسند اور مر غوب غذا تھی ۔ سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کرم ﷺ کی ایک درزی نے دعوت کی آپﷺ نے یہ دعوت قبول فرمائی ۔ آپ ﷺ کے ساتھ سیدنا انس ؓ بھی تھے ۔ میزبان نے جو کی روٹی اور کدّو کے شور بے سے تواضع فرمائی ۔ نبی کریم ﷺ شہا دت کی انگلی سے شوربہ سے کدّو کے ٹکڑے تلاش کر کے کھا تے اور اللہ رب العالمین کا شکریہ ادا کرتے (مسند احمد ) سید نا انس ؓ فرما تے ہیں کہ جب میں نے نبی کریم ﷺ کی کدّو سے یہ رغبت دیکھی تو میں نے ہر کھا نے میں کدّو کو شامل کر نے کی کوشش کی (مسند احمد) ۔ کدّو کے بارے میں جدید طبّی تحقیق ہے کہ معدہ کے امراض کا خاتمہ کر تا ہے قبض جیسے ام الا مراض کا حتمی علاج ہے ۔ جگر کی حدت کا خاتمہ کر تا ہے ہا تھ پاؤں کی جلن کو دور کر تا ہے ۔ شدت پیاس کو کم کر تا ہے بینائی کو تیز کر تا ہے ، بھوک لگا تا ہے ، پیٹ کے انتہائی تکلیف دہ کیڑے کدّو دانے کا علاج ہے ۔

کدّو کی بیج پیس کر روٹی پر شہد لگا کر کدّو کے بیج کا پا ؤڈر لگا کر کھائیں اللہ کے فضل سے یہ پا ؤڈر لگا نے سے کیڑوں کا خاتمہ ہو جا تا ہے جلدی امراض اور چہرے کی چھائیوں پر اس کو کاٹ کر ملنا بے حد مفید ہے روغن زیتون میں جوش دے کر سر میں ملنا نیند کی کمی کو دور کر تا ہے ۔ سر کی خشکی اور سکری کا حتمی علاج ہے اس کی سر پر مالش ، نیند کی کمی یا نیند نہ آنے کو دُور کر تی ہے سکون بخش ہے ۔ کدّو کا پانی استعمال کر نا یر قان کی تمام اقسام کی امراض میں مفید ہے پیشاب کی جلن کو دور کر تا ہے ۔

زیتون  
نبی کریم ﷺ کی من پسند اور مرغوب غذاؤں میں زیتون کو بھی خاص مقام حاصل ہے زیتون اور انجیر کی قسم رب کا ئینات نے کھائی ہے زیتون کئی قسم کے اچاروں کی صورت میں اور درجنوں برانڈ کے خوردنی تیل کی صورت میں دستیاب ہے ۔ زیتون کمر درد ، گردھ کے تمام امراض آنکھوں کی بینائی کو تیزکر نے، بالوں کو سفید ہو نے سے روکنے، جوڑوں کے درد میں مالش کر نے اور خوردنی طور پر بھی بے حد مفید ہے )کے تمام امراض میں بے حد مفید ہے اور یہ ثابت بھی ہداور روغن زیتون کو باہم پھینٹ کر اس کا تسلسل سے استعمال گردہ ( عام مرض ہے مذکو رہ با لا نسخہ گردہ کو نئی زندگی بخشتا ہے ۔ نبی کریم ﷺکا مرغوب طبع ہو نے کے باعث Kidney Failure ہوا ہے ۔ زیتون ہر حال میں ہمارتے لئے مفید ہے۔

انجیر  
انجیر پھیپڑے کو مضبوط کر تی ہے ،بلغم کو قابل اخراج بناتی ہے آواز کے بیٹھ جانے (بحتہ الصوت) کے لئے اس کا لعاب بے حد مفید ہے ۔ پیٹ کے کیڑوں کا خا تمہ کرتی ہے ۔ دائمی قبض کا علاج ہے سر کہ میں بھگو کر استعمال کر نا ، شو گر میں  مفید ہےخونی بوا سیر میں انجیر کو دودھ میں جوش دے کر دو تین روز تک روزانہ رات کو پینا مرض کے خاتمے کی نوید ہے انجیر برص میں بھی بے حد مفید ہے ۔

بہی  
سفر جل (بہی) مربہ کی صورت میں عام مل جا تا ہے دل کے دھڑکنے ، خفقان میں مفید ہے بھوک لگاتی ہے ۔ نکسیر ، بواسیر ، کثرتِ طمث اور جریان خون کی ہر قسم میں مفید ہے یہ قدرت کا انمول تحفہ ہے ہما رے پیا رے نبی کریم ﷺ کو بے حد پسند اور مرغوب تھا ۔

ثرید  
نبی کریم ﷺ گوشت کے شوربہ میں روٹی بھگو کر استعمال فرما تے (صحیح بخاری) مریضوں کے لئے یہ رودِہضم اور مفید غذا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق دے کہ نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کر تے ہو ئے دین و دنیا کی بھلائی سمیٹ سکیں یہ اس طرح ممکن ہے کہ دینِ اسلام پر عمل پیرا ہو کر حُبّ رسول ﷺ میں سنت نبوی ﷺ پر عمل کریں بازاری اور غیر ملکی کھا نوں کی بجائے اپنے آقا ﷺ کی پسند کو تر جیح دیں اسی میں کا میابی ہے ۔

Source: alifseye.com

No comments:

Post a Comment