Monday, 13 February 2017

خبردار! اپنے گردوں کی صحت کا خیال رکھیں۔

   تحقیق و تحریر :  رمشا شیراز ۱۱ فروری ۲۰۱۷      

! محترم قارئین
انسان کے جسم میں دو گر دے ہو تے ہیں جو کہ پیٹ کے اوپر والے حصے میں ، ریڑھ کی ہڈی کے دونوں طرف پسلیوں کے نیچے ہو تے ہیں ہر گر دہ مٹھی کے برابر اور وزن تقریباً ۱۵۰ گرام کا ہو تا ہے اور نیز گردے میں۱۰ لاکھ فلٹر ہو تے ہیں جو کہ ۲۰۰لیٹر خون کو روزانہ فلٹر کر تے ہیں ۔ 


انسانی جسم میں گر دوں کے افعال 

    گر دے انسانی جسم میں بلند فشار خون کو کنٹرول کر تے ہیں نیز غیر ضروری پانی ، گندے مادے کی تیزابیت کو جسم سے نکالتے ہیں گردے ہڈیوں کو مضبوط رکھنے کے لئے وٹامن ڈی بنا تے ہیں اور خون کو بنا نے کے لئے کئی ایک طرح کے مادے بنا تے ہیں جو کہ ہڈیوں کے گدے میں ) کر کے سرخ سیل بنا تے ہیں جس میں ہموگلوبین کی مقدار ٹھیک رہتی ہے ۔ 
پاکستان میں کی جا نے والی تحقیق کے مطابق ۴۰سال سے زیادہ عمر کے افراد میں پندرہ سے بیس فیصد لو گوں کے گر دے خراب ہیں ۔ 

گردے اور ذیابطیس (شوگر) 
دنیا میں شوگر کے مریضوں کی تعداد۳۸۷ملین ہے جو کہ 2035ء میں بڑھ کر ۵۹۲ملین ہو جائیگی ۔2015  میں شوگر کی وجہ سے دنیا  میں5ملین  اموات ہو ئی ہیں دنیا میں شوگر کی شرح کے لحاظ سے پاکستان ساتھویں نمبر پر ہے۔
پاکستان میں کی جا نے والی تحقیق کے مطابق شوگر گر دے کے خراب  ہو نے کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔ پاکستان میں شو گر کی شرح15سے20فیصد ہے۔ 2015ء کے سر وے کے مطابق پاکستان میں شو گر کے18فیصد مریض تھے جو کہ تر قی یا فتہ ممالک کی نسبت سے دو سے تین گنا زیادہ ہے ان مریضوں میں سے ایک تہائی مریضوں کے گر دے خراب ہو نے کا خدشہ ہے ۔ 

چونکہ شوگر انسانی جسم میں سر سے لے کر پاؤں تک  تمام اعضاء پر انداز ہو تی ہے جس سے مختلف طرح کی پیچیدگیاں پیدا ہو تی ہیں جن میں فالج ، بینائی پر 28فیصد ، دل کے امراض ، گردوں کے امراض ، پاؤں اور ٹا نگوں کا کٹ جا نا جو کہ 60 فیصد ہے ۔ 

سب سے اہم بات جو ہر گر دے کے مریض کو پتہ ہو نی چا ہئیے وہ یہ کہ جیسے جیسے گر دے خراب ہو تے ہیں شوگر کی مقدار کم ہو نے سے مریض بے ہوش ہو سکتا ہے اور اس کو ٹھنڈے پسینے بھی آسکتے ہیں اس صورت میں شو گر کے مریضوں کو فوراً اپنے گر دے کے ٹیسٹ کر وانے چا ہئیں ۔ 

شو گر کی رو ک تھام کے لئے ہمیں صحت مند غذا اور روزانہ 30منٹ خالی پیٹ پیدل چلنا چا ہئیے صحت مند غذا سے مراد سبزیاں اور تا زہ پھلوں کا استعما ل اور بنا چربی کے گوشت ، گندم کا آٹا ، گھی اور نمک کا کم استعمال ضروری ہے ان غذائی تبدیلیوں کے ساتھ ایسے لو گ جن کا وزن زیادہ ہو ان کو اپنا وزن کم کرنا چا ہئیے شوگر کے علاج کے لئے دوائیاں گو لیوں اور انسولین کی شکل میں استعمال کر نا چا ہئیے ۔ 


بلڈ پریشر اور گردے 

بلند فشار خون مریضوں کو چا ہئیے کہ وہ اپنا علاج کسی کوا لیفائیڈ  ڈاکٹر سے کر وائیں اور اس کو کنٹرول رکھیں جن کو یہ بیماری ہے ان کو چا ہئیے کہ وہ اپنے تمام اہل خانہ  کا بلڈ پریشر بھی چیک کر وائیں جس کا زیادہ ہو اس کا علاج کر وائیں ۔ 
پاکستان میں ہونیوالی تحقیق کے مطابق صرف50فیصد لوگ جن کا (بی پی) بلند ہے وہ اپنا چیک اپ کرا تے ہیں اور ان میں سے صرف آدھے لوگ علاج کرواتے ہیں ۔


گر دے کی پتھریاں 
پاکستان میں گر دے فیل ہو نے کی تیسری بڑی وجہ گر دے کی پتھریاں ہیں گر دے اور نالیوں میں پتھری کی وجہ سے کمر میں شدید درد ہو تا ہے جس کے ساتھ پیشاب کی تکلیف بھی شروع ہو جا تی ہے ۔ پتھریوں کے بار بار بننے کی وجہ سے گر دے آہستہ آہستہ کمزور ہو جا تےہیں اور آخر کا رگر دے مکمل طور پر خراب ہو جا تے ہیں گر دے اور پتھریوں والے مریضوں کو دن میں تین سے ساڑھے تین لیٹر پیشاب کی مقدار آنی چا ہئیے جس کے لئے سخت موسم میں کام کر نے  والوں کو پانی اور مائغ چیزوں کی بہت زیادہ مقدار لینی پڑتی ہے۔ 

گر دے فیل ہو نے کی علامات 
گر دے فیل ہو نے کی مختلف علامات ہیں کچھ علا مات تو با لواسطہ گر دے سے ہو تی ہیں جیسا کہ پیشاب میں رکاوٹ اور خون کا آنا ۔کچھ علا مات بلا واسطہ طور پر جسم پر اثر کر تی ہیں جن میں پاؤں اور منہ کا سوجنا ، سانس کا بڑھنا ، متلی اور قہہ آنا ، بہت زیادہ تھکا وٹ محسوس کر نا ، کام کر تے وقت دماغی طور پر توجہ مرکوز نہ کر سکنا ، جسم کو جھٹکے محسوس ہو نا ، منہ کا ذائقہ خراب ہو نا ، پاؤں کا سن ہو نا شامل ہیں 

گر دے نا کارہ ہو نے  کی صورت میں علاج 

گر دوں کی با لواسطہ معاملا ت چونکہ بلڈ پریشر اور ذیابطیس کے مریضوں کو زیادہ ہو تی ہے اس لئے ان مریضوں کو چا ہئیے کہ وہ گر دوں کے ٹیسٹ ہر 6 ماہ بعدضرور کر وائیں گر دوں کی کارکردگی کے ٹیسٹ کسی بھی اچھی لیبا ٹری سے کر وائے جا سکتے ہیں ۔ 

ان ٹیسٹس کے نام یہ ہیں 


S. SREAMTRIN 
URINE X / E


مندرجہ با لا ٹیسٹس سے ماہر امراض گر وہ گر دوں کی کارکر دگی کا بخوبی اندازہ لگا لیتے ہیں اور اگر ان ٹیسٹس میں خرابی ہو تو فوراً گردوں کے اسپیشلسٹ یا   سے چیک اپ کر وائیں جب گر دے اپنا  چیک اپ کروائیں جب (Nephrologists)نیفرا لو جسٹس(Urologist) ڈاکٹرز ، یو رالوجسٹس 
گر دے اپنا کام چھوڑ دیتے ہیں تو اس صورت میں دو طریقوں سے علاج کیا جا تا ہے جن میں ایک گر دے کی صفائی (ڈائیلسز) اور دوسرا طریقہ گر دے کی پیوند کا ری ہے ۔ گر دے کی صفائی کے دو طریقے ہیں ایک طریقے سے انسان کو خون ایک مشین سے گزا را جا تا ہے اور زہریلے مادوں سے صاف ہو کر 
دو بارہ  جسم میں چلا جا تا ہے اور دوسرے طریقے میں انسان کے پیٹ میں ایک سلو شن ڈالا جا تا ہے اس طریقہ سے انسان بغیر کسی مشین کے اپنے گھر میں گر دے کی صفائی کر سکتا ہے ۔

اگر گر دے کی پیوند کا ری کا میاب ہو جائے تو گر دے کی پیوند کا ری کے نتا ئج گر دے کی صفائی کی نسبت بہتر ہیں جس سے نہ صرف زندگی بھی بہتر ہو تی ہے بلکہ معیار زندگی بھی بہتر ہو جا تا ہے چونکہ اس کے علاج کا ماہا نہ خرچ عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے گر دے کی پیوندکا ری کی صورت میں بھی ماہانہ ہزاروں روپیہ کی دوائیاں کھا نی پڑتیں ہیں ۔ 

گر دے کے مریضوں کے لئے سنہری اصول 
گر دے کے مریضوں کے لئے چند سنہری اصول اپنا نے کی ضرورت ہے انہیں چا ہئیے کہ 

اپنا بلڈ پریشر کنٹرول رکھیں
شو گر کو کنٹرول رکھیں
خوراک میں نمک کا پر ہیز کریں  
روزانہ۳۰ منٹ خالی پیٹ پیدل چلیں 
اپنے جسم کا وزن کم کریں  
دردوں کی ادویات (پین کلرز) کے لگا تار استعمال سے پرہیز کریں 
سگریٹ نوشی سے مکمل پر ہیز کریں 
اگر گر دے میں پتھری ہو تو مکمل علاج کر وائیں



اُمید ہے کہ آپ کو اس آرٹیکل سے گردوں کے بارے میں معلومات حاصل ہو ئی ہو گی جس پر عمل کر کے آپ اپنی اور اپنے گھر والوں کی صحت کا اچھی طرح خیال رکھ سکیں گے۔


Source: alifseye.com
In order to remain updated about our upcoming and latest videos please subscribe our channel here.

No comments:

Post a Comment